نئی دہلی،23؍اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) مشہور شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے ڈرائیور کے مذہب کے نام پر لوگوں کو بھڑکانے کا الزام لگایا ہے۔ جاوید اختر نے وشو ہندو پریشد کے رکن ابھیشیک مشرا کے اشتعال انگیز ٹویٹ پر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ مذہب کے نام پر لوگوں کو لڑانے والے ٹویٹ کر رہے ہیں ان کا علاج کیا جانا چاہئے۔ اس واقعہ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جاوید اختر نے کہا کہ ایسے لوگ بیمار ہیں۔ ایسے لوگوں کے خاندانوں کو ان کا علاج کرانا چاہئے جو اس طرح کے ٹویٹ کر کے ایسا ماحول بنا رہے ہیں۔جمعہ کو خود کو وی ایچ پی کا رکن بتانے والے ابھیشیک مشرا نام کے شخص نے ٹویٹ کیا کہ اس نے اولا کیب کی بکنگ اس لئے منسوخ کر دی کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کے پیسے جہادی لوگوں تک جائیں۔ اس کے بعد وی ایچ پی کارکن ابھیشیک مشرا کا ٹویٹ وائرل ہو گیا اور بہت سے لوگوں نے اس کے ٹویٹ کی مذمت کی۔ایک نیوز ایجنسی کو دئیے انٹرویو میں ابھشیک مشرا نے کہا کہ اسے اپنے کئے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ یہ اصل میں عمل کا ردعمل ہے۔ اناو کے معاملے میں انہوں نے جس طرح کی فوٹو وائرل کی ہے اسے سب نے دیکھا ہے۔ میں نے ایسے لوگوں کو ان کی ہی زبان میں جواب دیا ہے۔